ہم تم ہوں گے

 


عطا ء الحق قاسمی

میرا ایک دیرینہ دوست اپنی بعض عادات سے بہت تنگ ہے ایک دن کہنے لگا ’’یار تم جانتے ہوں میں عام زندگی میں بہت ایکٹو (ACTIVE) آدمی ہوں مگر کچھ معاملات ایسے ہیں جن میں، میں بہت سست اور میرا ہاتھ پائوں ہلانے کو بالکل جی نہیں چاہتا۔ میں نے پوچھا مثلا ؟ بولا، مثلاً جب میں اٹھتا ہوں تو طبیعت میں ایک عجیب طرح کا اضمحلال ہوتا ہے چنانچہ بستر پر کروٹیں بدلتا ہوں۔ میں نے جواب دیا ایسا تو میرے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ کہنے لگا میرا معاملہ تم سے مختلف ہے کیونکہ میں جب بستر سے نکلتا ہوں اور تیار ہونے کے لئے باتھ روم جاتا ہوں تو مجھے شیو کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام لگتا ہے، کیسا بیہودہ کام ہے۔ مگر بہرحال کرنا پڑتا ہے۔ میں نے کہا میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ بولا، اسکے بعد نہانے کا ارادہ کرتا ہوں تو نہانے کو جی نہیں چاہتا چنانچہ منہ پر پانی کا چھینٹا مارنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ میں نے کہا میرا مسئلہ بھی یہی ہے، بلکہ مجھے تو ٹوتھ پیسٹ کرنا بھی مشکل لگتا ہے۔ بولا ، بالکل، بالکل ! یہ کام میرے لئے بھی بہت مشکل ہے لیکن میری سستی تو حد سے تجاوز کرچکی ہے۔ دفتر جانے کے لئے کپڑے بدلنا ہوتے ہیں تو میرا جی تو اس کام کو بھی نہیں کرتا، چنانچہ سخت مجبوری کی حالت میں کپڑے تبدیل کرتا ہوں۔ اسکے بعد موزے اور جوتے پہننے کا مرحلہ آتا ہے یہ مرحلہ بھی میرے لئے بہت جانگسل ہوتا ہے چنانچہ میرا ملازم مجھے موزے اور جوتے پہناتا ہے۔ میں نے کہا یار کمال ہے میں بھی بالکل اسی کیفیت سے گزرتا ہوں حالانکہ تمہاری طرح عام زندگی میں، میں بھی بہت فعال ہوں۔ اسکے بعد بھی اس نے اسی نوع کے دیگر معاملات کی تفصیل بھی مجھے بتائی۔ مثلاً یہ کہ وہ پانی پینے کیلئے اٹھ کر فریج تک نہیں جاسکتا۔ اپنے ملازم کو پانی لانے کیلئے کہتا ہے۔ اسکے ہاتھ کی دسترس سے ذرا دور اگر کوئی چیز پڑی ہو اور اسکے لئے ذرا سا آگے کو سرکنا پڑے تو اسے یہ جان جوکھوں کا کام لگتا ہے۔ پھر جب دفتر جانے کیلئے اسے اپنے کمرے سے نکل کر باہر پورچ تک جانا ہوتا ہے اس کیلئے بیگ اٹھانا مشکل ہوتا ہے چنانچہ ملازم بیگ گاڑی میں رکھتا ہے اور وہ کار کی پچھلی سیٹ پر براجمان ہو جاتا ہے۔ ڈرائیور اسے دفتر تک لے کر آتا ہے وہاں بیسیوں فائلیں اسکی میز پر کئی دنوں سے پڑی ہوتی ہیں جن پر اسے دستخط کرنا ہوتے ہیں باہر سائل قطار اندر قطار بیٹھے ہوتے ہیں مگر اسے فائلوں پر دستخط کرنا اور سائلوں سے ملاقات کرنا ایک عذاب سا لگتا ہے۔ میرے اس دوست نے اپنی کاہلی کی اور بھی بہت سی مثالیں دیں اور میں ہر مرتبہ حیران ہوا کیونکہ ان تمام امور میں میرا معاملہ بھی ہو بہو یہی تھا جو وہ بیان کر رہا تھا۔ اپنی گفتگو کے اس حصے کے آخر میں دوست نے کہا ، مگر یار ایک بہت عجیب بات ہے جو میں تم سے شیئر کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ جہاں میں بعض معاملات میں بے حد سست الوجود واقع ہوا ہوں وہاں کئی مواقع پر اپنی پھرتی دیکھ کر میں خود حیران رہ جاتا ہوں ۔ ان لمحوں میں، میں محسوس کرتا ہوں کہ میں خود کو خواہ مخواہ کوستا رہتا ہوں کیونکہ میں اتنا کاہل نہیں ہوں جتنا میں خود کو سمجھتا ہوں۔ مجھے اپنے دوست کی یہ بات سنکر خوشی ہوئی کیونکہ معاملہ میرا بھی یہی ہے۔ دوست نے بتایا کہ جب میں بڑے صاحب کو ایئر پورٹ پر ریسیو کرنے جاتا ہوں میں نے انہیں کبھی ان کے بیگ کو ہاتھ نہیں لگانے دیا بلکہ اگر کبھی ایئر پورٹ پر کوئی پورٹر دستیاب نہ ہو تو میں انکا اٹیچی کیس بھی باآسانی ہاتھ میں اٹھا کر انکی کار تک لے جاتا ہوں۔ میں تو انکے ڈرائیور کوبھی اسکے پاس پھٹکنے نہیں دیتا۔ اسی طرح جب بڑے صاحب کا فون آتا ہے کہ فلاں مسئلہ آج شام تک حل کرکے مجھے صبح اس کے بارے میں بتائو تو میں رات تک دفتر میں بیٹھ کر کام کرتا ہوں اور صبح دفتر پہنچتے ہی ان کو رپورٹ کرتا ہوں۔ اسی طرح میں جب سہ پہر کو دفتر سے گھر پہنچتا ہوں تو اسکے بعد میرا کہیں آنے جانے کو جی نہیں چاہتا لیکن شام کی کچھ محفلیں ایسی ہوتی ہیں جن کے شرکا نہایت نفیس لوگ ہوتے ہیں۔ اگرچہ پوسٹنگ، ٹرانسفر اور پروموشن ایسے اختیارات ان کے پاس ہوتے ہیں مگر ان محفلوں میں وہ بہت شفقت سے پیش آتے ہیں۔ ان کی شفقت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس محفل کی رونق کے سبھی سامان مہیا کرنے کی ذمہ داری انہوں نے مجھے سونپی ہوئی ہے چنانچہ میں جو عام حالات میںشام کو گھر سے باہر نہیں نکلتا ان محفلوں میں شرکت کو نہ صرف اپنے لئے باعث افتخار بلکہ باعث خیر و برکت بھی تصور کرتا ہوں اور سستی اور کاہلی میرے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔ اس محفل میں، میں کسی ملازم کو قریب بھی نہیں آنے دیتا اور ان نفیس لوگوں کے ذرا سے اشارے پر تمام کام میں خود انجام دیتا ہوں، میں ان لوگوں کا اتنا احترام کرتا ہوں کہ جو سائل انکے حوالے سے میرے دفتر میں آتا ہے میں باہر بیٹھے سائلوں کی بھیڑ چیرتا ہوا خود انکے پاس چل کر آتا ہوں اور اسے اپنے ساتھ دفتر میں لے کر آتا ہوں۔


یہ داستان سنانے کے بعد دوست نے مجھے مخاطب کیا اور پوچھا یار اب تم ہی بتائو کہ میں کیا واقعی ایک کاہل آدمی ہوں یا یہ میرا وہم ہے؟ میں نے کہا، میں تمہیں اس سوال کا کیا جواب دوں کیونکہ خود میں بھی اپنے بارے میں یہی سوال کرتا رہتا ہوں۔ تم نے جو کچھ اپنے بارے میں بتایا ہے وہ لفظ بہ لفظ میرے احوال کی عکاسی کرتا ہے۔ چنانچہ سوچ بچار کے بعد ایک روز میں بالآخر ایک نتیجے یہ پہنچ گیا تھا دوست نے پوچھا، کس نتیجے پر ؟ میں نے جواب دیا یہی کہ ہم ایسے لوگ کاہل نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ترجیحات کا فیصلہ کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت عطا کی ہے چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ کون سا کام اہم ہے کون سا غیر اہم ہے۔ کس شخص کو سلام کرنا چاہئے، کس سے سلام کروانا چاہیے، کہاں سستی سے کام لینا ہے، کہاں پھرتی سے کام لینا ہے، کون مفید ہے، کون غیر مفید ہے؟ فائدہ ضمیر کے مطابق کام کرنے میں ہے یا ضمیر فروشی میں ہے؟ سو ہماری زندگیاں اسی اصول کے مطابق اپنی راہیں متعین کرتی ہیں لیکن اب ہمیں اس حوالے سے شاید ازسرنو سوچنا پڑے، دوست نے پوچھا وہ کیسے ؟ میں نے کہا ، اب ہمارے اور ان نفیس لوگوں کے درمیان جن کا تم ابھی ذکر کر رہے تھے سپریم کورٹ کباب میں ہڈی کی طر ح آگئی ہے۔ سو اب ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں اوپر، نیچے، درمیان میں سے کہاں رہنا ہے . . . تمہیں اور مجھے یہ فیصلہ اب سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔

..........................

کوئی تبصرے نہیں

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©2024 ڈھڈیال نیوز
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.