کیا یہ بچے گلدستے پیش کریں گے؟

وسعت اللہ خان

دو جنوری کو بیروت میں اسرائیلی فضائیہ کے ایک میزائلی شب خون میں حماس کے ایک کلیدی رہنما صالح ال اروری کی شہادت نہ تو پہلی ہے اور نہ ہی آخری۔


حماس ہو یا کوئی بھی دوسری سرکردہ فلسطینی تنظیم۔ ایک کمانڈر یا رہنما کے منظر سے ہٹ جانے پر چند دن کا نفسیاتی جھٹکا تو محسوس ہوتا ہے لیکن پھر کوئی ویسا ہی باصلاحیت شخص قیادت سنبھال لیتا ہے اور اپنے پیشرو کے کام کو پہلے سے زیادہ جانفشانی سے آگے بڑھاتا ہے۔


ایسی حریت پسند تنظیموں کی قیادت دنوں ، ہفتوں ، مہینوں اور برسوں میں نہیں لمحوں میں جیتی ہے اور ایک کے ہٹتے ہی دوسرا جگہ لے لیتا ہے اور علم گرنے نہیں دیتا۔یہ کام اوسط درجے کے اعصاب کا انسان نہیں کر سکتا لہٰذا جدوجہد کی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل لوگ نکلتے رہتے ہیں، گرتے ہیں، نئے آ جاتے ہیں اور نہ پہیہ رکتا ہے، نہ ہی حوصلے کی کمر ٹوٹتی ہے۔دنیا کی تمام آزادی کی کامیاب تحریکوں میں بس یہی قدرِ مشترک ہے کہ سفر بھلے تیز یا کبھی سست پڑ جائے مگر رکنے نہ پائے۔


ستاون سالہ صالح ال اروری حماس کے مسلح بازو القسام بریگیڈ کے بانیوں میں شامل تھے۔وہ پندرہ برس تک اسرائیل کی قید میں رہے اور دو ہزار سات میں رہائی کے بعد لبنان منتقل ہو گئے۔


انھوں نے دو ہزار گیارہ میں ایک اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کی رہائی کے عوض اسرائیلی قید سے ایک ہزار ستائیس فلسطینیوں کو چھڑوانے کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔


دو جنوری کو جاں بحق ہوتے وقت بھی ال اروری حماس کے ترجمان تھے۔ان کا گاؤں مغربی کنارے پر رام اللہ کے نزدیک ارورا تھا۔اسی کی نسبت سے وہ اروری کہلاتے تھے۔اکتیس اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے ان کا آبائی گھر منہدم کردیا جسے وہ برسوں پہلے چھوڑ چکے تھے۔


انھیں اسرائیلی ایجنسیوں کی جانب سے مسلسل موت کی دھمکیاں موصول ہوتی رہتی تھیں۔امریکا نے اروری کا نام دو ہزار پندرہ میں دہشت گردی کی عالمی فہرست میں ڈال کر ان کے سر پر پانچ ملین ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔ان کی شہادت کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے تبصرہ کیا کہ کوئی بھی آخر کب تک بچے گا۔


جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا۔یہ کوئی نہ پہلا قتل ہے نہ آخری۔ہر فلسطینی حریت پسند گروہ کا اسی طرح تعاقب کیا گیا بھلے اس نے اسرائیل کے سیاسی وجود کو تسلیم کر بھی لیا ہو۔جس جس نے بھی اسرائیلی کے مسلح تاریخی غاصبانہ رویے کے خلاف بندوق یا آواز اٹھانے کی کوشش کی اسے دہشت گرد قرار دے کے مارا گیا۔


عماد عاقل غزہ کے جبالیہ کیمپ میں پیدا ہوئے۔ ہوش سنبھالا تو یہی دیکھا کہ کس طرح ان کے اہلِ خانہ اور اردگرد کے لوگ اسرائیلی حملوں میں شہید ہوتے چلے گئے۔


چنانچہ لڑکپن میں ہی عماد نے حماس میں شمولیت اختیار کی اور کچھ ہی عرصے میں انھیں چھلاوے کا خطاب مل گیا۔کیونکہ وہ اسرائیلی ٹھکانوں کے خلاف اتنی پھرتی سے کارروائی کر کے روپوش ہو جاتے کہ حریف ٹاپتا رہ جاتا۔انھیں جلد ہی القسام بریگیڈ کی کمان مل گئی۔انھوں نے ہی موجودہ بریگیڈ کمانڈر محمد دائف کی بھی تربیت کی۔


انیس سو ترانوے میں غزہ کے علاقے شجاعییہ میں مخبری کی بنیاد پر اسرائیلی حملے میں عماد عاقل شہید ہو گئے۔ان کی عمر محض بائیس برس تھی۔


یحیی ایاش نے غربِ اردن کی بیرزیت یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم لی۔وہ حماس کے مسلح چھاپہ ماروں کے لیے خانہ ساز بارود و آلات تیار کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔اسرائیلی کی داخلی سیکیورٹی کے ادارے شن بیت کے ایجنٹوں نے ان کے موبائیل فون میں ایک پھٹنے والا پرزہ نصب کر دیا اور وہ انتیس برس کی عمر میں شہید کر دیے گئے۔


خالد مشال پیشے کے لحاظ سے فزکس کے استاد ہیں۔ان کا شمار حماس کے بانی ارکان میں ہوتا ہے۔انیس سو چھیانوے میں انھیں تنظیم کا سربراہ مقرر کیا گیا۔اگلے برس وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے موساد کو خالد مشال کو ٹھکانے لگانے کا کام دیا۔اس وقت وہ اردن کے دارالحکومت عمان میں رہائش پذیر تھے۔ایک روز دفتر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے موساد کے ایک ایجنٹ نے ان کے کان میں ایک آلہ لگانے کی کوشش کی جس میں زہر بھرا ہوا تھا۔ خالد کے محافظوں نے اسے پکڑ لیا۔


خالد کا کہنا ہے کہ ان کے کان میں آلہ داخل ہونے کے بعد انھیں اپنے دماغ میں ایک دھماکے اور جسم میں برقی جھٹکوں جیسی کیفیت محسوس ہوئی۔انھیں اسپتال لے جایا گیا اور چند گھنٹوں میں ان کی حالت خراب تر ہوتی چلی گئی۔اردن کے شاہ حسین نے دھمکی دی کہ اگر اسرائیل نے اس زہر کا تریاق فوراً فراہم نہ کیا تو وہ دوطرفہ امن سمجھوتے سے دستبرداری کا اعلان کر دیں گے اور جس ایجنٹ کو پکڑا گیا ہے اس پر تیزی سے مقدمہ چلایا جائے گا۔


نیتن یاہو کو صدر بل کلنٹن نے ذاتی طور پر فون کیا۔اسرائیل کو مجبوراً تریاق فراہم کرنا پڑا جس کے استعمال سے خالد مشال کی زندگی بچ گئی۔اس کے بعد خالد مشال دمشق منتقل ہو گئے اور پھر قطر چلے گئے۔


صالح شہادہ انیس سو تریپن میں غزہ کے شتی پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے۔حماس میں شمولیت کے بعد صالح نے قسام بریگیڈ کی راکٹ فورس کی تشکیل اور دیگر اسلحے کی غزہ میں اسمگلنگ میں کلیدی  کردار ادا کیا۔


اسرائیلی انٹیلی جینس نے غزہ کے الدراج محلے میں واقع ان کے گھر میں ان کی موجودی کا پتہ چلایا اور ایک طیارے نے اس گھر پر ایک ٹن وزنی بم گرا دیا۔صالح سمیت پورا خاندان بشمول سات ہمسایہ خاندان ختم ہو گئے۔


شیخ احمد یاسین کو حماس کا بانی کہا جاتا ہے۔یہ تنظیم انیس سو ستاسی میں قائم ہوئی۔شیخ یاسین انیس سو چھتیس میں موجودہ اسرائیل کے جنوبی شہر عشقلان کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔


جب وہ بارہ برس کے تھے تو ان کی نگاہوں کے سامنے صیہونی ملیشیا نے پورا گاؤں مسمار کر کے ان سب کو بے دخل کر دیا۔شیخ یاسین کا خاندان غزہ میں آن بسا۔بائیس مارچ دو ہزار چار کو غزہ شہر میں نماز ِ فجر کے لیے وہیل چئیر پر مسجد جاتے ہوئے اسرائیلی اپاچی ہیلی کاپٹر سے میزائل داغا گیا اور شیخ احمد یاسین شہید ہو گئے۔


شیخ یاسین کی جگہ حماس کی کمان عبدالعزیز الرنتیسی نے سنبھالی۔مگر ایک ماہ بعد ان کی ٹریکنگ کے بعد ایک میزائل حملے میں انھیں غزہ شہر میں شہید کر دیا گیا۔


جب انیس سو اڑتالیس میں صیہونیوں نے یبنا کے قصبے سے فلسطینیوں کو جبراً نکالا تب رنتیسی کی عمر ایک برس تھی۔انیس سو چھپن میں اسرائیلی فوج نے خان یونس کے پناہ گزین کیمپ میں سیکڑوں فلسطینیوں کا قتلِ عام کیا۔ رنتیسی نے اپنے چچا کو اپنے سامنے شہید ہوتے دیکھا۔


آج جو بچے غزہ پر بیتنے والی ایک اور قیامت دیکھ رہے ہیں۔آپ کا کیا خیال ہے وہ بڑے ہو کر ہاتھوں میں گلدستے تھامے اسرائیل کو پیش کریں گے؟


(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

..........................

کوئی تبصرے نہیں

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©2024 ڈھڈیال نیوز
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.