سیاست کے’’سرتاج‘‘ بھی گئے

محمد بلال غوری

سرتاج عزیز واقعی سیاست کے سرتاج تھے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے بطور طالب علم رہنما قیام پاکستان کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا تو ’’مجاہدپاکستان ‘‘کے سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ مارچ 1946ء میں قائداعظم تقسیم انعامات کی تقریب میں شرکت کیلئے آئے تو انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آپ ’’مجاہد پاکستان‘‘تو ہیں مگر اب میں آپ سے کہوں گا کہ ’’معمار پاکستان‘‘ بنیں۔ کامرس اور انڈسٹری کے شعبہ جات کی طرف توجہ دیں۔ شام کو ممدوٹ ولا میں قائداعظم سے ملاقات کے دوران سرتاج عزیز نے معصومانہ سوال کیا کہ ہم طالبعلم صنعت وحرفت کیلئے کیا کرسکتے ہیں،آپ جاگیرداروں سے کہیں کہ ان شعبہ جات میں سرمایہ کاری کریں۔ قائداعظم نے شفقت بھرے انداز میں جواب دیا’’برخوردار !جب میں طالبعلموں سے کہتا ہوں کہ اس طرف توجہ دیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ تعلیم کا رُخ ان شعبہ جات کی طرف موڑ دیں۔‘‘سرتاج عزیز قانون دان بننا چاہتے تھے مگر قائداعظم کی اس نصیحت کے بعد انہوں نے ہیلی کالج آف کامرس میں داخلہ لے لیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے محکمہ اطلاعات میں بھرتی ہوئے۔ بعد ازاں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے پاکستان ملٹری اکائونٹس سروس کا حصہ بن گئے۔ پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر خدمات سرانجام دیں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے میں خدمات سرانجام دیں اور جنرل ضیاالحق کے دور میں پاکستان واپس آکر وزیر مملکت برائے خوراک کا منصب سنبھالا۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد وزیراعظم جونیجو کی کابینہ میں شامل رہے ۔اس دوران قومی اسمبلی کی اسپیکر گیلری میں ان کی نوازشریف سے پہلی بار ملاقات ہوئی ۔سرتاج عزیز کو حیرت ہوئی کہ وہ ممبر قومی اسمبلی ہیں مگر حلف اٹھانے کے بجائے گیلری میں کیوں بیٹھے ہیں۔ وہ نواز شریف کی طرف گئے اور بے ساختہ بولے ’کیا آپ پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے والے ہیں؟‘سرتاج عزیز لکھتے ہیں کہ نواز شریف کا رد عمل اجنبیت بھرا، معنی خیز اور پراسرار تھا۔’انہوں نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔‘ضیاالحق کی وفات کے بعد مسلم لیگ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تو دونوں دھڑوں کو یکجا کرنے میں سرتاج عزیز نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہیں نگراں حکومت میں وزیر خزانہ بنایا گیا اور جب میاں نوازشریف انتخابات جیتنے کے بعد پہلی بار وزیراعظم بنے تو وزارت خزانہ کا قلمدان ایک بار پھر ان کے حوالے کردیا گیا۔1997ء میں جب میاں نوازشریف ہیوی مینڈیٹ لیکر دوسری بار وزیراعظم بنے تو سرتاج عزیز کو ایک بار پھر وزیر خزانہ بنادیا گیا۔چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ اور صدر فاروق لغاری کے گھر جانے سے 6 ماہ پہلے ہی اس حوالے سے منصوبہ بندی ہونے لگی کہ صدر پاکستان کا منصب کس کے حصے میں آئے گا۔3جون 1997ء کو مسلم لیگ(ن)کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ صدارتی الیکشن کے موقع پر سرتاج عزیز پارٹی کے اُمیدوار ہوں گے۔ اخبارات میں بھی اس حوالے سے خبریں شائع ہوئیں مگر جب 2دسمبر کو فاروق لغاری مستعفی ہو کر گھر چلے گئے اور ان کے جانشین کی تلاش شروع ہوئی تو سرتاج عزیز کو نظر انداز کردیا گیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو 15ممکنہ امیدواروں کی فہرست دی اور کہا کہ میرٹ پر چھان بین کرکے ان کی ترجیحاتی فہرست پیش کی جائے۔وزیراعظم کو جو فہرست تیار کرکے دی گئی اس میں سرتاج عزیز کا نام سب سے اوپر تھا مگر میاں نوازشریف پہلے ہی فیصلہ کرچکے تھے ۔انہوں نے اچانک کسی جادوگر کی طرح اپنے ہیٹ سے جسٹس(ر)رفیق تارڑ کا نام نکال لیا۔ سرتاج عزیز نے میاں نوازشریف سے گلہ کرتے ہوئے کہا ’’ہم سب آپ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کے پابند ہیں مگر میرے دل میں ایک خلش ہمیشہ رہے گی کہ گزشتہ 12برس سے خلوص کے ساتھ پارٹی کیلئے سب کچھ کر گزرنے کے باوجود میں آپ کا اعتماد نہیں جیت سکا۔‘‘نوازشریف نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد جواب دیا:’’سرتاج صاحب! ایسی بات نہیں ہے، وزارت خزانہ میرے اصلاحاتی پروگرام کا اعصابی مرکز ہے اور آپ بہترین وزیر خزانہ ہیں اگر آپ کو صدر بنادیا جاتا تو میں آپ جیسا وزیر خزانہ ہرگز نہ ڈھونڈ پاتا۔‘‘حالات کی ستم ظریفی دیکھیں ،جس سرتاج عزیز کو نوازشریف ناگزیر قرار دے رہے تھے، کچھ عرصہ بعد ان سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس لیکر اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنادیا گیا۔2013ء میں مسلم لیگ (ن)کی حکومت آئی توسرتاج عزیز کو قومی سلامتی اور اکنامک افیئرز کا مشیر بنایا گیا۔میاں نوازشریف چاہتے تو سرتاج عزیز کو صدارتی امیدوار بنا کر سابقہ وعدہ خلافی کی تلافی کرسکتے تھے مگر اس بار قرعہ فال ممنون حسین کے نام نکل آیا۔


جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تو سرتاج عزیز کا موقف تھا کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے کے بجائے معیشت کے میدان میں جواب دینا چاہئے اور امریکہ سے معاشی پیکیج کے علاوہ قومی سلامتی کی ضمانت حاصل کرنی چاہئے۔14مئی 1998ء کو اس حوالے سے کابینہ کا اجلاس ہوا تو میڈیا میں ڈینگیں مارنے والے کئی وزرا نے یوٹرن لے لیا۔صرف تین وزرا نے کھل کر کہا کہ ہمیں ایٹمی دھماکے کرنے چاہئیں۔ کابینہ کے دیگر ارکان یا تو امن کی فاختائیں بن گئے یا پھر انہوں نے اگر،مگر چونکہ ،چنانچہ کا سہارا لیکر واضح موقف اختیار نہ کیا۔بہر حال پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا ۔سرتاج عزیز کی خود نوشت ’’Between dreams and realities‘‘ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ لکھتے ہیںــ:’’بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں جب میاں نوازشریف نے تحریک نجات چلانے کا فیصلہ کیا تو سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے ایک رُکن نے کہا، پاکستان میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے تین ’’A‘‘درکار ہوتے ہیں۔اللہ ،امریکہ اور آرمی۔ آپ کے پاس کتنے ’’A‘‘ہیں۔ نوازشریف نے کہا،فی الحال تو صرف ایک ’’A‘‘ ہے، اللہ۔‘‘ نواز شریف ایک بار پھر وزیراعظم بننے جا رہے ہیں، نجانے اب ان کے پاس کتنے ’’A‘‘ہیں۔

..........................

کوئی تبصرے نہیں

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©2024 ڈھڈیال نیوز
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.