لیول پلیئنگ فیلڈ

 


اشفاق اللہ جان ڈاگیوال 

قارئین جس وقت یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے اس وقت 2023 ناکامیوں، نامرادیوں، بہت سارے دکھوں، تکلیفوں اور کمرتوڑ مہنگائی دینے کے بعد رخصت ہوچکا، فلسطین کے مظلوم عوام پر اسرائیلی بربریت گزشتہ سال کا سب سے زیادہ المناک حصہ تھا، غزہ اور مغربی کنارے میں مظلوم فلسطینیوں خصوصاً معصوم بچوں کے قتل عام اور نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی پر پوری پاکستانی قوم اور اْمتِ مسلمہ شدید رنج کے عالم میں ہے۔


بے شمار امیدوں کے ساتھ نیا سال 2024 نئی امنگوں اور امیدوں کے ساتھ شروع ہوچکا ہے۔ تبدیلی کے قارئین کو ڈھیروں دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ نیا عیسوی سال مبارک ہو۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ نیا سال مظلوم فلسطینیوں اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے فتح اور آسانیاں لائے، آمین ثمہ آمین یا رب العالمین۔


اب آتے ہیں لیول پلیئنگ فیلڈ کے موضوع کی طرف، ملک میں عام انتخابات کا عمل اب تیسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، انتخابی معاملات کاغذات نامزدگی اور امیدواروں کی اہلیت و نااہلیت کے مراحل سے نکل کر اب تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

پاک فوج نے بھی مکمل تعاون کا یقین دلا دیا ہے، مگر اس کے باوجود غیر یقینی صورتحال ہے، مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی، جے یو آئی، پی ٹی آئی، غرض کہ کوئی بھی جماعت یقین کے ساتھ یہ بات نہیں کہہ سکتی کہ ملک میں عام انتخابات طے شدہ شیڈول کے مطابق آٹھ فروری کو ہی ہو جائیں گے۔ مگر تمام جماعتیں اپنے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کا مطالبہ کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اور مخالفین کی سہولت کاری سے منع کیا جارہا ہے۔


الیکشن سے پہلے جو فضا بنانے کی کوشش کی جا رہی  ہے، اگر الیکشن ہوبھی گئے تو نتائج کو متنازعہ بنانے کی کوشش شروع ہو جائے گی‘ یوں ملک میں عدم استحکام جاری رہے گا۔ قابل قبول نہیں ہونگے نہ ملک و قوم کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔


اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پی ٹی آئی پاکستانی سیاست میں پلانٹیڈ اور سلیکٹڈ تھی، یہ سیلکشن اور تجربہ بری طرح ناکام ہوکر نہ صرف سیلکٹرز اور سہولت کاروں، بلکہ پوری قوم اور پاکستان کے گلے پڑا۔ تبدیلی سرکار نے تاریخ کی بد ترین مہنگائی اور بیروزگاری سے قوم کا جینا محال کیا، ملک کو معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے دھانے پر لاکھڑا کیا۔


تبدیلی کے اس تجربے نے پاکستانی سیاست کے اطوار بدل کے رکھ دیے، معاشرتی اقدار کا جنازہ نکال دیا، اور ان کے ممبران و کارکنان منہ چھپائے پھرتے رہے، اگر ان کو اپنے پانچ سال پورے کرنے دیے جاتے تو پاکستان کی سیاست سے تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین کا نام حرف غلط کی طرح مٹ جاتا، مگر 5 سال پورے کرتے کرتے ملک کا بھی بیڑا غرق ہوجاتا، اس لیے اپوزیشن نے جو تحریک 2018 کے الیکشن کے اگلے دن شروع کی تھی اس میں ایک بار پھر سارے لوگ مولانا فضل الرحمن کے ہمنوا بن گئے اور پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے تحریک عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی جو کامیاب ہوئی۔


بہتر یہی تھا کہ فوری نئے الیکشن کرا دیے جاتے لیکن بجائے نئے الیکشن کرانے کے تحریک انصاف کے دور حکومت کے تمام سیاسی اور معاشی گند کو پی ڈی ایم حکومت کے سر پر لاد کر تحریک انصاف کو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا۔


پی ڈی ایم کی حکومت پر اپنی نااہلی کے علاوہ تحریک انصاف کی نااہلی کا سارا ملبہ بھی گرا، مگر کمال مہارت سے زرداری صاحب نے حکومتی مزے لوٹتے ہوئے پیپلزپارٹی کو اس بوجھ سے محفوظ رکھا، نقصان صرف مسلم لیگ اور کسی حد تک جمعیت علمائے اسلام کے حصے میں آیا۔ ہم اسی دن سے کہتے رہے کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد مخلوط حکومت قائم کرنا تحریک انصاف کو بچانے کی چال اور سہولت کاری تھی۔


تحریک انصاف کے مردہ گھوڑے میں ایک نئی جان ڈالی گئی۔ جوہوتا رہا اور جو کچھ ہونے کا اندیشہ تھا ہم قبل از وقت اسی کالم میں وقتاً فوقتاً آگاہ کرتے رہے۔ مگر سہولت کار سہولت کاری سے باز آئے نہ پی ڈی ایم والوں کو ہوش آیا۔ اس میں دورائے نہیں کہ پروجیکٹ چیئرمین تحریک انصاف کے خالقوں سے بھی نہ سنبھالا گیا، اس نے اپنی تباہی کا سامان اپنے ہی ہاتھوں کرلیا ،جب 9مئی کو پی ٹی آئی کے سیاسی خودکش بمبار ریاست پر حملہ آور ہوئے۔


ان واقعات کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پی ٹی آئی کے جو لوگ مجرمانہ اور دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے، جن پر سنگین نوعیت کے مقدمات تھے، اور جن پر 9 مئی کو ریاست پر حملہ آور ہونا ثابت ہوچکا تھا۔


ان کو اسپیڈی ٹرائل کے ذریعے نشان عبرت بنایا جاتا اور جو لوگ کسی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھے ان کو لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کرکے سیاسی میدان میں اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیا جاتا مگر 7 مہینے گزرنے کے باوجود پورا سسٹم تذبذب کا شکار رہا، کسی ایک کو سزا نہیں ہوئی اور اس طرح ان مجرموں کو ہمدردیاں ملنا شروع ہوئیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ایک بار پھر ان کے لیے سہولت کاری کی گئی۔


اور دوسری طرف بھونڈے انداز میں تحریک انصاف کے لوگوں کو ڈیل کیاجارہا ہے، ان کی عوامی تائید میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اور لگتا یوں کہ ہمدردیاں سمیٹنے کا باقاعدہ بندوبست کیا جارہاہے۔ جس بھونڈے انداز کے ساتھ ان کو ٹریٹ کیا جارہا ہے، اس سے لگ ایسا رہا ہے کہ یہ سب کچھ تحریک انصاف اور بانی تحریک انصاف کو مظلوم بنا کر عوامی تائید دلانے کے لیے سہولت کاری کی جارہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایسا لگ رہا تھا کہ پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دے دیا جائے گا، پھر انتخابی نشان چھین کر عدالت کے ذریعے دوبارہ دلوایا گیا۔


ایک بار پھر شاید چھین لیا جائے، پی ٹی آئی کے امیدواروں سے کاغذات نامزدگی چھیننے کے واقعات کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت اچھالا گیا مگر حیرت کی بات ہے تمام جماعتوں سے زیادہ نامزدگی کے کاغذات تحریک انصاف کے جمع ہوئے اگر ان کے کاغذات چھینے جارہے تھے تو پھر سب سے زیادہ کاغذات ان کے کیسے جمع ہوئے؟


ایک منصوبہ بندی کے تحت سزا یافتہ، مفرور اور ملک سے باہر بھاگے ہوئے لوگوں کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے جس نے مسترد ہونا ہی تھا مگر مسترد ہونے پر ایک بار پھر واویلا ہونے لگا، مگر پورے پاکستان میں ایسا کوئی حلقہ کسی کو نہیں ملے گا جس میں تحریک انصاف کا امیدوار نہیں ہوگا مگر سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی اور میڈیا پر ایک تحریک برپا کی گئی جس کے نتیجے میں عوامی تائید اور ہمدردیاں تحریک انصاف کو مل رہی ہیں لگ ایسا رہا ہے کہ یہ ایک باقاعدہ گیم پلان کے تحت سہولت کاری ہو رہی ہے کہ تحریک انصاف کو دبانے کا تاثر اور دوسری جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ نون کو نوازنے کا تاثر دے کر تحریک انصاف کے لیے رائے عامہ ہموار کی جارہی ہے اور مسلم لیگ سمیت دوسری جماعتوں کی عوامی ہمدردیاں کم کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے۔


تحریک انصاف کے حقیقی حریف دو ہی ہیں ایک مسلم لیگ نون اور دوسری جمعیت علمائے اسلام پاکستان، پاکستان مسلم لیگ نون کے بارے میں نوازنے کا تاثر دے کر سیاسی نقصان پہنچایا جارہا ہے اور مولانا فضل الرحمن سے تو فیلڈ ہی چھننے کی کوشش ہو رہی ہے۔


کیونکہ گزشتہ کئی ماہ سے وزارت داخلہ مولانا فضل الرحمن پر ممکنہ حملوں سے خبردار کررہی ہے، خودکش حملوں کے بارے میں کئی تھریٹ الرٹ جاری کیے جا چکے ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت کو محدود سے محدود کیا جاسکے اوروہ الیکشن کمپین نہ چلا سکیں۔ اب مولانا فضل الرحمن کے بیٹے مولانا اسعد محمود کو ایڈوائزری نوٹس جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ “دہشت گردوں کی طرف سے آپ کو دوران سفر یا رہائش گاہ پر ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے۔غیر ضروری سفر اور اجتماعات سے گریز کریں”۔


2023 کی آخری اتوار کی شام ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا فضل الرحمن کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کی گاڑیوں پر دہشت گردوں نے حملہ کیا۔


گاڑیوں پر دو اطراف سے فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کا واقعہ یارک انٹرچینج پر پیش آیا۔ اس حملے کے دوران مولانا تو موجود نہیں تھے مگر اس حملے سے کراچی سے خیبر تک دینی حلقوں میں تشویش لہر دوڑ گئی ہے۔


ہر باشعور پاکستانی مولانا کی سیکیورٹی کو لے کر پریشان ہے۔ اس وقت الیکشن مہم جاری ہے، ظاہر ہے مولانا جیسے سیاسی قد کاٹھ کے رہنما گھر تو نہیں بیٹھ سکتے، ایسی صورتحال میں ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ صرف تھریٹ الرٹس جاری نہ کرے اور اب اس حملے کے بعد اپنی آنکھیں کھول کر مولانا کی سیکیورٹی کا فول پروف بندوبست کرے۔


یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ مولانا ایک مقبول سیاسی رہنما کے علاوہ پاکستان کے طول و عرض میں موجود لاکھوں علماء کے مرشد و امام ہیں، لاکھوں مساجد و مدارس کے سرپرست ہیں و روحانی پیشوا ہیں۔


اگرخدانخواستہ انھیں کچھ ہوگیا تو حالات سنبھالنا ریاست کے بس میں بھی نہیں ہوگا۔ اس لیے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کے بجائے پیشگی حفاظتی انتظامات کا بندوبست کیا جائے تاکہ شرپسند عناصر کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ ملے اور مولانا کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہ سہی فیلڈ تو ملے۔

..........................

کوئی تبصرے نہیں

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں ©2024 ڈھڈیال نیوز
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.